مفت جائزہ کی نگرانی |  بہترین ساکھ مینجمنٹ سوفٹ ویئر
مفت جائزہ کی نگرانی | بہترین ساکھ مینجمنٹ سوفٹ ویئر

سائبرسپیس میں اردو زبان کے داخلے کو پندرہ سال سے زیادہ کاعرصہ نہیں گزرا ہے، مگر اتنی مختصر مدت میں بھی اس زبان نے انٹرنیٹ کی دنیا میں غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے. اردوسافٹ ویئر کے علاوہ یونیکوڈ اردو کے ذریعے بھی آسانی سے اظہار خیال کی سہولت موجود ہے. دیگر زبانوں کی مانند اردو زبان میں بھی علوم و فنون کاایک بڑا ذخیرہ انٹرنیٹ پردستیاب ہے، مختلف زبانوں کے صحافتی ذرائع سے تحریک پا کر ہندوپاک اور دیگرممالک سے شائع ہونے والے اردوزبان کے اخبارات و رسائل کی ایک بڑی تعداد ” آن لائن”ہوچکی ہے اوردنیاکے کسی بھی خطے میں رہنے والے انسان کے لیے آسان ہوگیاہے کہ وہ کسی بھی ملک کاکوئی بھی پسندیدہ اخبار یا میگزین کہیں بھی بیٹھ کربآسانی دیکھ اورپڑھ سکتا ہے. ادبی رسالوں، کتابوں، شاعری کے معتد بہ ذخیرے کے علاوہ متعدد ادبی سائٹس سرگرم عمل ہیں اور انٹر
 مندرجہrealDonaldTrump فالو کریںrealDonaldTrump خاموشrealDonaldTrump باصوت کریںrealDonaldTrump فالونگ ان فالو کریں بلاکrealDonaldTrumprealDonaldTrump بلاک شدہ ان بلاک زیر التواءrealDonaldTrump زیرrealDonaldTrump کرنے کے لئے اپنے فالو کی درخواست منسوخrealDonaldTrump سے درخواست کی پیروی کریں
بات چیت میں صابر احمد کا کہنا ہے کہ کوتھم طلبہ کی بڑھتی ہوئی دلچسپیوں اور بین الاقوامی ڈیمانڈ کو دیکھتے ہوئے عنقریب نئے پروگرامز شروع کرنے جا رہا ہے – کالج کے طلبہ و طالبات کی مہارت اور پروفیشنل ٹریننگ کا ہم نے صرف مشاہدہ ہی نہیں کیا بلکہ انکی پریزنٹیشن اور انکے پروجکٹس اور اسائنمنٹ کو بھی دیکھا، مگر کالج کے دورے پر لذیز ڈشز کو نہیں چکھ سکے اسکے لئیے صابر احمد صاحب کی کسی تقریب میں دوبارہ جانا ہو گا –

ایک نفسیاتی شعبہ کے یو کے محقق جینیل ووہلمین نے مزید کہا: “اس مطالعے کے لئے ہم نے شرکاء سے فیس بک کا استعمال کرنے کے لئے صرف دیگر ریسرچ شرکاء کے ساتھ منسلک کرنے کے لئے (لوگوں کے چھوٹے گروپ کے ساتھ فیس بک کا استعمال کرنا سیکھا تھا) اور لوگوں نے باقاعدہ طور پر یہ تبصرہ کیا کہ مطالعہ کا ان کا پسندیدہ حصہ دوسرے ریسرچ شرکاء کو جاننے اور ان سے معلومات کے نئے ٹکڑوں کو جاننے کے لۓ تھا. ”
کوتھم گذشتہ پندرہ سال سے بین الاقوامی معیار کے مطابق پاکستان اور دبئی میں 15 کیمپسز کے ذریعے ٹریول اور ٹورازم، ہوٹل منیجمنٹ اور پروفیشنل شیف کی تعلیم فراہم کرہا ہے. گذشتہ 15 سالوں میں 18 ہزار سے زائد طلبہ وطلبات پاکستان سمیت دنیا بھر کی ہوٹل اور ٹریول انڈسٹری میں خدمات انجام دے رہے ہیں. کوتھم میں اعلی تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ماہرین تعلیم بطور اساتذہ اپنی خدمات انجام دیتے ہیں. کوتھم، آیا ٹا، امریکن ہوٹلز ایسوسی ایشن، برطانوی اور یورپ کے اعلی تعلیمی اداروں اور کنسورشم کا ممبر ہے، اس سے قبل بھی متعدد بین الااقوامی ایوارڈ حاصل کرچکا ہے
چیئرمین خلیل نے کہا کہ بلوچ نیشنل موومنٹ کسی سے اختلاف رائے کے اظہار کا حق نہیں چھینتا لیکن اختلاف رائے اور تنقید کے نام پر توہین اور تذلیل آمیز پروپیگنڈہ انتہائی منفی عمل ہے اور جس کا نقصان بلوچ قومی تحریک کے سوا کسی کو نہیں ہوگا، وقت و حالات اور دشمن کے مظالم ہم سے یہی تقاضا کرتے ہیں کہ جو مواقع ہمیں دستیاب ہیں ہم انہیں بلوچ قومی مفاد کے لئے بروئے کار لائیں.
تنازعات پر NFS ضروریات کے ساتھ عمل کی مدد کے لئے، منصوبوں مسائل آزادانہ اور شفاف نشر کر رہے ہیں کہ بات کو یقینی بناتی ہے کہ ایک نظام قائم کریں اور ایک جانے کے لئے طریقہ کار یہ ہے کہ وہاں چاہئے، مواصلات مشکل ہو جاتا ہے یا نیچے ٹوٹ جاتا ہے اس سے پہلے کہ.
سوشل میڈیا پر موجود ٹرولز یا پیڈ (جنہیں پیسے دیے جاتے ہیں) لوگ دوسری قسم کے بھی ہیں جن کے بارے میں رضا کہتے ہیں کہ ‘ایک اور طرح کے پیڈ لوگ وہ ہیں جو بظاہر تو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ پیسے لے کر کام کر رہے ہیں مگر ان کا جو مواد ہوتا ہے اور جو ان کے نشانے پر لوگ ہوتے ہیں، اس معلوم ہوتا ہے کہ وہ شاید خفیہ اداروں یا چند جہادی تنظیموں کے لیے کام کر رہے ہیں. ‘
مجموعی طورپراس وقت سیکڑوں سوشل سائٹس ہیں، جو کسی نہ کسی خصوصیت میں ایک دوسرے سے ممتاز ہیں اور انھیں مخصوص ممالک یا لوگوں میں مقبولیت حاصل ہے. ہندوستان میں بھی سوشل میڈیاکے طورپر استعمال ہونے والی بہت سی سائٹس ہیں، البتہ ان میں دس مشہور ہیں اور ان سے عام طورپر لوگ واقفیت رکھتے ہیں. ان سوشل سائٹس میں فیس بک، واٹس ایپ، فیس بک میسنجر، گوگل پلس، سکائپ، ٹوئٹر، ہائک میسنجر، لنکڈان، انسٹاگرام اور وی چیٹ شامل ہیں. ہندوستانی ٹوئٹریوزرس کی تعداد 26.7 ملین، فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد 241 / ملین، واٹس ایپ یوزرس 200 / ملین، انسٹاگرام یوزرس کی تعداد 33 / ملین، لنکڈان یوزرس کی تعداد 42 ملین ہے، ان کے علاوہ دیگر سوشل سائٹس کے استعمال میں بھی عالمی سطح پرہندوستانی صارفین کی تعداد عموما دوسرے یا تیسرے نمبر پر ہے.
یہ ادارے غیر روایتی تعلیم اور ٹریننگ میں نہ صرف ملک میں شہرت رکھتے ہیں بلکہ انکی شہرت بیرون ملک بھی پہنچ چکی ہے – ہوٹل مینجمنٹ، کوکنگ، شیف، ٹریول اینڈ ٹور ازم اور ریسٹورنٹ کے بزنس کی بنیادی تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ آج کے دور میں نہیں چل سکتا، پاکستان میں اس شعبے میں کوتھم کالج آف ٹورزم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کی بہت شہرت ہے ملک کے مختلف شہروں میں اسکی برانچوں میں طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد استفادہ کر رہی ہے –
جیو نیوز کی اینکر ماریہ میمن جو سوشل میڈیا پر بذات خود بہت مقبول ہیں، کہتی ہیں: ‘بلاشبہ شاہ زیب قتل کیس. جس طرح کی سوشل میڈیا نے مہم چلائی ہے نوجوان جو اکٹھے ہوئے ہیں اور اس نہج تک لے کر آئے اس کیس کو کہ وہ اتنی اہمیت اختیار کرگیا. ‘
ھماری گزارش یہ کہ سید مودودی کومحض گالی دے کر ان کے اصل “کارناموں” پر پردہ نہ ڈالا جائے بلکہ ان کی زندگی اورمابعد کے ان کے سیاسی فکر اور دینی تفہیم کےاثرات ونتائج کا قومی وبین الاقوامی صورتحال کےتناظر میں تحلیل وتجزیہ کرنا بہت ضروری ھے. پاکستان میں ان کے عقیدت مند اور ناقدین ہمیشہ سے رہے ہیں لیکن جس چیز کی کمی رہی ہے وہ گیرائی اور گہرائی سے سید مودودی کی دینی وسیاسی فکر کا تجزیہ رہا ہے. ان کے عقیدت مندوں کا اجتماع دین بیزار طبقوں سے نفرت کے باعث ان کے کیمپ کا حصہ بنا اوران کے دینیات پرابتدائی پمفلٹس پڑھ کر اپنی عقیدتوں کو پروان چڑھاتا رہا لیکن سید مودودی کے علاوہ کسی دینی فکراور بصیرت کو پڑھنے اورسمجھنے کے لیے ٹائم نہ نکال سکا . اور دوسرا ناقدین کا طبقہ ہے جو تحقیق سے زیادہ نعرے اور تحقیرپر زیادہ انحصار کرتا ہے انہوں نے کبھی بھی سنجیدگی سے سید مودودی کی فکر پر کوئی تنقیدی اور تحقیقی کام نہیں کیا اسی لیے جماعت اسلامی نے جب چاہا ان مذھبی طبقوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرلیا. ایم ایم اے، ملی یک جہتی کونسل اس کی ناخوشگوار مثالیں ہیں. ناقدین کے حلقے کو اس معاملے میں تحقیق و ریسرچ کے مروجہ اسلوب کو اپنانا چاہیے اور سید مودودی کے خلاف اپنے اصل میدان کا تعین کرنا چاہئیے تاکہ وہ ان خطرات سے قوم کو بچا سکیں جہاں سے ذہنی اور نظریاتی حملے ہوتے ہیں اور پھر ان طبقوں کو بھی پہچاننا پڑے گا جو سید مودودی کی فکر کو گولہ وبارود فراہم کرتے ہیں. کیا یہ محض اتفاق ہے کہ گزشتہ سترسالوں سے پاکستان کے تعلیمی اداروں، لائبریریز، سول اورعسکری اداروں پرایسےعناصر کا قبضہ ہے جو ہرمعاملے کا آخری علاج مودودی فکر ہی کو قرار دیتے ہیں یا خواہی ناخواہی اسی طرز فکر پر اپنے عملی نظام کی عمارت کھڑی کرتے ہیں .
کمیٹی نے مینوئل اسکیوینجر کے بچوں کے لئے چل رہی پری میٹرک وظیفہ اسکیم کے بجٹ کو لےکر بھی فکر ظاہر کی ہے اور این ایس کے ایف ڈی سی کی کھنچائی کی ہے.کمیٹی کی طرف سے کہا گیا ہے، ‘این ایس کے ایف ڈی سی ایک نوڈل ایجنسی ہے اور اسکیم کی عمل آوری میں اس کا مظاہرہ اطمینان بخش نہیں ہے. ‘
“خطرے سے دوچار جنگلی حیات کی انواع کا مسئلہ نہایت توجہ طلب ہے جو ہماری توجہ کا طالب ہے. ماحولیاتی تحفظ کے زبردست حامی ہونے کی حیثیت سے ہم WWF- روس کے ساتھ ان کے طويل المعياد جنگلی حیات کے تحفظ کے پروجیکٹس میں کام کرنا جاری رکھنا چاہتے ہیں اور ہم جس ماحول میں رہتے ہیں، اسے بہتر بنانا چاہتے ہیں. ”
 ‘امریکہ، روس اور چین کی طرح سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا حق’ ” پاکستان نے بھار ت کی دیرینہ خواہش پر اپنا فیصلہ سنا دیا، بڑا سرپرائز دیتے ہوئے کیادھماکہ خیز اعلان کر دیا، جان کر بھارتیوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے، ‘جنوری، 2017 تک 12737 مینوئل اسکیونجروں کی پہچان کی گئی اور اس سال 17 جنوری تک نشان زد مینوئل سکیوینجروں کی تعداد 13639 تھی. اس کا مطلب یہ ہوا کہ سال2017-18 میں محض 902 مینوئل سکیوینجروں کی پہچان کی گئی. کمیٹی اس کو لےکر ناراضگی کا اظہار کرتی ہے. ‘
دایاں شاہد کوچ سی ای او محمد طاہر خان، ڈائریکٹر سیما طاہر اور GM جمشید خان کو چھوڑ دیا وصول کرنے کیلئے گولڈن ڈریگن گشت لاہور افتتاحی تقریب سے VPL کے عہدیداروں سے پہلے کی علامتی کسٹمر سائن ان سے.
رضا رومی کے مطابق ‘دو طرح کے پیڈ (جنہیں پیسے دیے جاتے ہیں) لوگ ہوتے ہیں. ایک تو وہ ہوتے ہیں جو کھلم کھلا علی الاعلان اپنی جماعت یا گروہ کا پرچار کر رہے ہوتے ہیں. آپ کو معلوم بھی ہوجاتا ہے کہ وہ کارکن ہیں یا سوشل میڈیا کی ٹیم کا حصہ ہیں.جس میں کوئی امر مانع نہیں ہے. مگر مسئلہ وہاں پر آتا ہے جب وہ بدزبانی اور بد اخلاقی پر اتر آتے ہیں. اور یہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے. ‘
عمرانیات یا سماجیات سماجی رویے، اس کے مآخذ، ترقی، تنظیم اور اداروں کے مطالعے کا علم ہے. یہ ایک ایسا سماجی علم ہے جو مختلف تجرباتی تفتیشی طریقوں اور تنقیدی جائزوں کے ذریعے معاشرتی نظم، بدنظمی اور معاشرتی تبدیلی کے بارے میں ایک علمی ڈھانچہ وضع کرتا ہے. ایک ماہر عمرانیات کا عمومی ہدف سماجی پالیسی اور فلاح کے لیے براہ راست لاگو ہونے والی تحقیق منعقد کرنا ہوتا ہے، تاہم عمرانیات کے علم میں معاشرتی عمل کی تصوراتی تفہیم کو بہتر بنانا بھی شامل ہے. موضوعاتی مواد کا احاطہ فرد کے کردار اور عمل سے لے کر پورے نظام اور سماجی ڈھانچے کی تفہیم تک جاتا ہے.
لاہور (وقائع نگار خصوصی) چیف جسٹس ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ سائلین کی مشکلات کو کم کرنا اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے زیر التواء مقدمات کو جلد از جلد نمٹانا ہماری اولین ترجیح ہے. سائلین کو مقدمات سے متعلق تمام معلومات گھر کی دہلیز تک پہنچائیں گے. ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس نے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کے اجلاس کی صدار ت کرتے ہوئے کیا.اپنی نوعیت کیپہلیاجلاس میں ضلعی عدلیہ سے متعلق پالیسی معاملات اور ضلع کی سطح پر عدالتوں میں بہترین روابط قائم کرنے کے حوالے سے موضوع بھی زیر بحث آئے.سید منصور علی شاہ نے کہا کہ موجودہ عدالتی نظام میں تبدیلی کے ثمرات عوام تک جلد از جلد پہنچے چاہیں. کیس مینجمنٹ اور کیس آٹومیشن کا نفاذ بھی جلد کیا جانا ضروری ہے. مقدمات کا فزیکل ویریفی کیشن آڈٹ کرکے تمام مقدمات کو آن لائن کیا جائے تاکہ مستقبل قریب میں کیس مینجمنٹ سسٹم کیلئے لانچ ہونے والا انٹرپرائز سسٹم کام کرنا شروع کرے گا تو ضلعی عدلیہ میں زیر التواء مقدمات کی بڑی تعداد نمٹانے میں مدد ملے گی. ضلعی عدلیہ نظام انصاف کی پہلی سیڑھی ہے اور اس نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں. اگر سائلین کو پہلی سیڑھی پر ہی بہترین انصاف مہیا کیا جائے تو اعلی عدالتوں میں مقدمات کے بوجھ کو کم کیا جاسکتا ہے. سائلین کے عدلیہ پر اعتماد کو بحال کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اس نظام کی بہتری کیلئے شفافیت، میرٹ اور احتساب پر مبنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہوں. سیشن جج تبدیلی کے نمائندے ہیں.اور وہ سخت محنت، لگن اور مثبت رویوں سے اس نظام میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتے ہیں. ضلعی عدلیہ میں نااہل، منفی رویوں اور مشکوک شہرت کے حامل جوڈیشل افسروں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گااور یہ سیشن ججوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جوڈیشل افسروں کی دیانت اور کارکردگی کی نگرانی کریں.جوڈیشل افسروں کی تشخیصی رپورٹ کسی دبائو میں آئے بغیر جرات مندی سے لکھیںتاکہ ایماندار اور غلط عناصر میں فرق سامنے آ سکے. ضلعی عدلیہ کیلئے کیس مینجمنٹ سسٹم کے اہم پہلوئوں پر بریفنگ بھی دی.
ٹپ ایک پوائنٹ کی قیمت استعمال کرتا ہے XAML میں ایک دوسرے کے طور پر دوسرے اندازوں کے لئے سائز کے طور پر سائز کی عمودی طور پر بیان. مثال کے طور پر، نقطہ ایونٹ ڈیٹا کا حصہ ٹچ کے واقعات کا حصہ ہے، لہذا آپ کو معلوم ہوسکتا ہے کہ کونسی سمت کی جگہ میں رابطے کی کارروائی ہوئی. XAML یا کوڈ میں اسے کس طرح استعمال کرنے کے بارے میں مزید معلومات کے لئے، پوائنٹ کے لئے API ریفرنس کا موضوع ملاحظہ کریں.
کلاس کے دو سیٹ XAML UI میں خلا کا ایک علاقے کی وضاحت کرتے ہیں: شکل کلاس اور جامیاتی کلاسیں. ان کلاسوں کے درمیان بنیادی فرق ایک شکل اس کے ساتھ منسلک ایک برش ہے کہ اور اسکرین کو مہیا کیا جا سکتا ہے، اور ایک ہندسہ صرف جگہ کے ایک علاقے کی وضاحت کرتا ہے اور یہ ایک اور UI املاک کو معلومات میں شراکت مدد ملتی ہے، جب تک مہیا نہیں کیا جاتا ہے. آپ جیومیٹری کی طرف سے وضاحت کی حد کے ساتھ UIE کے طور پر ایک شکل کے بارے میں سوچ سکتے ہیں. یہ موضوع بنیادی طور پر شکل طبقات کا احاطہ کرتا ہے.
لاہور (نمائندہ سپورٹس) قومی کھیل ہاکی بحرانوں سے نہ نکل سکا.پاکستان ہاکی فیڈریشن ٹیم مینجمنٹ میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے. شہباز سینئر تو پہلے ہی غیرملکی کوچ لانے کے حق میں تھے مگر اب سابق اولمپیئنز دانش کلیم و دیگرکے مطابق ایسی بری کارکردگی کے بعد فیڈریشن میں تبدیلی ناگزیر ہے.پی ایچ ایف کے انتخابات رواں سال ہونے ہیںجس سے اندازہ ہو گا کہ حکومت موجودہ فیڈریشن پر آپ یہاں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے ہیں.
عنوان: برانڈ نئے ہاؤسنگ 2.0MP 1080P آڈیو کیمرے hd36pcs قیادت فیکٹری چین سے فیکٹری Nightcision ائر کٹ بیرونی سی سی ٹی وی سیکورٹی کیمرے مختصر تعارف: IP66 پنروک بلٹ کیمرے 1
بول چال میں بھی استعمال ہونے لگا ہے. مختلف قسم کے انسانی جذبات کے اظہار کے لیے الگ الگ الفاظ وضع کیے گئے ہیں، جنھیں حسب موقع عام بول چال یا تحریر وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے، مگرسوشل میڈیا میں ان لفظوں کو برتنے کا بھی ایک الگ سٹائل ہے، خوشی یاغم کی کمیت و کیفیت کے اعتبار سے لفظ کے حروف بھی کم یا زیادہ ہوتے رہتے ہیں. مثال کے طورپر 21 / ستمبرکو مشہور بالی ووڈ ہیروئن دیپکاپاڈوکون نے اپنی آنے والی فلم ” رانی پدماوتی”کا پہلاپوسٹر شیئرکیا، جس پر مختلف مشہور فلمی شخصیات نے فوری طورپر اپنے اپنے ردعمل اور خوشیوں کا اظہار کیا، مگر ڈائریکٹر فرح خان کی خوشی اتنی زیادہ تھی کہ انھوں نے انگریزی کے لفظ شاندار کے آخر میں آٹھ G کا اضافہ کردیا. یہ صورت حال اردو زبان کو بھی درپیش ہے؛ چنانچہ ایسے مواقع پرسوشل میڈیا میں لفظ ” زبردست ” میں چار پانچ یا اس سے بھی زیادہ”ت”کا اضافہ ایک عام بات ہے.
ہیں.ٹیم میں جیسن محمد، مارلن سمیوئلز، سمیوئیل بدری، آندرے فلیچر، دنیش رام دین، چیڈوک والٹن اور ریاد ایمریٹس کے علاوہ کئی غیر معروف نام ہیں.جنگ نے 24 گھنٹے پہلے جیسن محمد کو کپتان بنانے کی خبر بریک کی تھی.ویسٹ انڈین بورڈ کا کہنا ہے کہ کپتان بریتھ ویٹ سمیت کچھ کھلاڑیوں کے سیکیورٹی پر تحفظات تھے جو سمجھ سے بالاتر ہیں. سی ای او ویسٹ انڈین بورڈ جونی گریوکا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی کے حوالے سے ملنے والی رپورٹ پر کرکٹ ویسٹ انڈیز اور پلیئرز ایسوسی ایشن مطمئن ہیں.کرکٹ ویسٹ انڈیز کے ڈائر یکٹر جمی ایڈمز، پلیئرز ایسوسی ایشن کے سربراہ ویول ہائنڈز بھی ٹیم کے ساتھ کراچی آرہے ہیں.ویسٹ انڈیز کی تیرہ رکنی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے.جیسن محمد (کپتان)، سمیوئیل بدری، آندرے فلیچر، دنیش رام دین، چیڈوک والٹن، ریاد ایمریٹس، آندرے میکارتھی، کیمو پاول، ویرا سیمی پر مول، رومن پاول، مارلن سیموئیلز، اوڈین اسمتھ، اور کیسر وک ولیمز.ویسٹ انڈین ٹیم انتظامیہ یونٹ میں اسٹیورٹ لاء (ہیڈ ک چ)، الفونسو تھامس (معاون کوچ)، ریان میرون (معاون کوچ)، ویرنن ولیمز (فزیوتھراپسٹ) اور ڈیکسٹر آگسٹس (ویڈیو ڈیٹا اینالسٹ) شامل ہیں.
سوشل کمیونٹی ایک فیملی یا خاندان میں تبدیل ہوچکی ہے؛ چنانچہ آپ کو اپنے خاندان کے درخت فیس بک جیسی تعبیراکثر و بیشتر سننے اور دیکھنے کو ملتی ہوگی، آپ جیسے ہی فیس بک کھولیں گے سب سے اوپر آپ کے ذہن میں کیا ہے لکھا ہوا آئے گااور پہلے سے گرچہ آپ کے دماغ میں کچھ نہ ہو، مگر یہ سوالیہ جملہ دیکھتے ہی کچھ نہ کچھ آپ کے دماغ میں آہی جائے گا اور پھر آپ آنا فانا اس کا اظہاربھی کردیں گے. الغرض جدید ٹکنالوجی نے موجودہ انسان کے سامنے اطلاع و روابط کے نئے آفاق کھول دیے ہیں، جن کی وسعت ہماری زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کے ساتھ ہی اس نے دنیاے زبان و ادب کے لیے بھی نئے امکانات و ابعادوا کردیے ہیں.
رضا کا کہنا ہے کہ ‘آپ اب تو ڈھنگ سے یا مہذب طریقے سے کوئی بحث یا گفتگو کر ہی نہیں سکتے. اس طرح بھی دیکھیے کہ نوجوان لوگ جو ہیں پاکستان میں خصوصا 18 اور 25 کی عمر کے درمیان جو بہت سے کیسز میں تاریخ سے نابلد ہیں شعور پختہ نہیں ہوا وہ بات بھی گالی گلوچ کے انداز میں کرتے ہیں. اس ماحول میں بالکل بحث نہیں ہو سکتی. ‘
عمرانیات
اردو میں جسمانی یا ذہنی تکلیف کے اظہار کے لیے ایک لفظ استعمال ہوتا ہے”اف ”، بنیادی طورپر یہ عربی زبان کا لفظ ہے اوراسم فعل ہے، اس لفظ سے فعل بھی استعمال ہوتا ہے أف یؤف یاأفف یؤفف، جس کے معنی ہیں اظہار تکلیف کرنا یا اف کہنا. فرہنگ آصفیہ (ج: 1، ص: 181) میں اسے حرف صوت قرار دیاگیا ہے اورمعنی لکھاہے: آہ، اوہ، افسوس، کسی زہریلے جانور کے کاٹ لینے یا دفعتا تکلیف کی آواز. مزید تشریح اس لفظ کی یہ کی گئی ہے کہ ” چوں کہ آتش دل کے بجھانے کے واسطے منہ سے یہ آواز نکلتی ہے؛ اس لیے یہ لفظ کبھی آہ سرد، کبھی اظہار درداور کبھی افسوس کے موقع پر بولتے ہیں ”. سوشل میڈیا میں بھی یہ لفظ ان ہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے، البتہ درد کی گہرائی و شدت کی کمی بیشی کے اعتبار سے حروف کم یا زیادہ ہوسکتے ہیں؛ چنانچہ اگر دودوست سوشل میڈیاپر بات چیت کررہے ہیں اور ایک نے دوسرے کوکسی بڑے حادثے کے بارے میں بتایا، تودوسرا دوست اظہار افسوس کے لیے جو لفظ ” اف ” استعمال کرے گا، اس میں پانچ دس یا اس سے کم یا زیادہ”ف”ہوسکتے ہیں، انگریزی رسم الخط میں کے بعد کئی F کے ذریعے اس لفظ کا استعمال کیا جاتا ہے. اسی طرح سوشل میڈیا کے ادبی فورمز، فیس بک یا واٹس ایپ کے ادبی گروپ پرجب کوئی عمدہ غزل یا نثر پارہ نشرکیا جاتا ہے، تو اس پر داد و تحسین کے لیے استعمال ہونے والے عام الفاظ کی بھی شکل و صورت بگاڑ دی جاتی ہے، مثلا اگرلفظ”کمال”لکھاجاتا ہے تو چار پانچ میم یا الف کے اضافے کے ساتھ. اس طرح کے خطابی، تعریفی یا مختلف قسم کے جذبات کے اظہار کے لیے بولے جانے والے الفاظ کے استعمال میں دوچارحروف کا اضافہ ایک عام بات ہے. الغرض سوشل میڈیا میں لفظوں کے درمیان حروف کے اضافے کا چلن تقریبا عام ہے اور یہ مسئلہ اردو کے ساتھ انگریزی و عربی اوربڑی حد تک ہندی زبان کو بھی درپیش ہے، ظاہرہے کہ الفاظ کو اس طرح برتنا خلاف قاعدہ و اصول ہے. بعض ایسی غلطیاں بھی سوشل میڈیا میں بکثرت نظر آتی ہیں، جو عموما بے احتیاطی کی وجہ سے سرزد ہوتی رہتی ہیں، مثلا: ” ر”اور”ڑ”میں فرق نہ کرنا، اسی طرح چیٹنگ کے دوران ” ہ ” اور”ھ”میں فرق نہ کرنااور”نہیں ” سے ” نون غنہ”کو غائب کردینا، یہ وہ غلطیاں ہیں جو سوشل میڈیا کے ساتھ خاص ہیں، ان کے علاوہ عام بول چال میں تلفظ میں جو غلطیاں کی جاتی ہیں، جن کی طرف متعدد مقالات میں اشارے کیے گئے، وہ سوشل میڈیا میں بھی آڈیو، ویڈیومیں عام طورپر سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں.
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) فیصل آباد میں کپڑوں کے معروف برانڈ لیوائس کی دکان کے چینج روم میں خفیہ کیمرے لگنے کا انکشاف. نجی ٹی وی کے مطابق فیصل آباد میں معروف برانڈ لیوائس کی دکان میں خفیہ کیمرے لگائے جانے کا انکشاف ہوا ہے. ملازمین خفیہ کیمرے لگا کر گاہکوں کی غیر اخلاقی اور برہنہ ویڈیوز بناتے تھے. دکان کے 4 ملازمین کو حراست میں لے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیاہے. موبائل فونز اور دیگر فونز پر تازہ ترین سائٹس